امت اس وقت تک کبھی بھی متحد نہیں رہ سکتی جب تک اس کا مرکز اور معیار صرف کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ نہ ہو۔
اختلاف اگر قرآن و سنت سے ہٹ کر ہو تو وہ اجتہادی نہیں بلکہ افتراقی ہوتا ہے، جیسا کہ سابقہ امتوں کے ساتھ ہوا۔
اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ کے بارے میں فرمایا
وَمَا تَفَرَّقُوا إِلَّا مِن بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ ۚ وَلَوْلَا كَلِمَةٌۭ سَبَقَتْ مِن رَّبِّكَ إِلَىٰٓ أَجَلٍۢ مُّسَمًّۭى لَّقُضِىَ بَيْنَهُمْ ۚ وَإِنَّ ٱلَّذِينَ أُورِثُوا۟ ٱلْكِتَـٰبَ مِنۢ بَعْدِهِمْ لَفِى شَكٍّۢ مِّنْهُ مُرِيبٍۢ
اور وہ لوگ تفرقہ میں نہیں پڑے مگر اس وقت کے بعد جب ان کے پاس علم آ چکا تھا، اور یہ آپس کی ضد اور حسد کی وجہ سے تھا۔ اگر آپ کے رب کا طے شدہ فیصلہ نہ ہوتا تو ان کے درمیان فیصلہ کر دیا جاتا، اور جو لوگ ان کے بعد کتاب کے وارث بنے وہ بھی اس میں شک میں پڑ گئے۔
(الشورىٰ: 14)
یہ آیت بتاتی ہے کہ تفرقے کی جڑ کتاب اللہ سے انحراف ہے، علم آنے کے بعد اپنی خواہشات کو مقدم کرنا ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا
تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا : كِتَابَ اللهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ
میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، جب تک تم ان دونوں کو مضبوطی سے تھامے رکھو گے ہرگز گمراہ نہیں ہوگے: اللہ کی کتاب (قرآن) اور اس کے نبی ﷺ کی سنت۔
موطأ الإمام مالك – كِتَابُ الْقَدَرِ – النهي عن القول بالقدر:3337
لہٰذا اگر مختلف فقہی مکاتب کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ پر اتفاق نہ کریں تو امت کی وحدت ناممکن ہے۔
جب تک ہر گروہ اپنی فقہ، اپنے امام اور اپنے مسلک کو حق کا معیار بنائے رکھے گا، امت کا حال وہی ہوگا جو یہود و نصاریٰ کا ہوا علم کے بعد بھی ضد، حسد اور تفرقہ۔ اتحاد صرف اسی وقت ممکن ہے جب سب سمعنا واطعنا کے تحت وحی کو فیصلہ کن اتھارٹی مان لیں۔