نذر قرآن میں عبادت ہی کے مفہوم میں آیا ہے، کیونکہ یہ بندے کا اپنے رب سے کیا ہوا عہد ہے جس کے ذریعے وہ کسی نیکی یا قربانی کو اللہ کے لیے خاص کرتا ہے۔ نذر دراصل اطاعت و بندگی کا وعدہ ہے، اور قرآن نے اسے ہمیشہ اللہ کے ساتھ وابستہ کیا ہے، کسی مخلوق کے ساتھ نہیں۔
يُوفُونَ بِالنَّذْرِ وَيَخَافُونَ يَوْمًا كَانَ شَرُّهُ مُسْتَطِيرًا
وہ لوگ اپنی نذر پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی سختی ہر طرف پھیلی ہوئی ہوگی۔
(الإنسان :7)
یہ آیت ان مخلص بندوں کی صفت بیان کر رہی ہے جو اپنی نذریں اللہ کے لیے پوری کرتے ہیں، یعنی ان کے وعدے، ان کی قربانیاں اور ان کے اعمال خالص اسی کی رضا کے لیے ہوتے ہیں۔ قرآن میں کہیں بھی نذر کو غیر اللہ کے ساتھ جوڑنے یا کسی ولی یا بزرگ کے نام پر کرنے کی تعلیم کا ذکر نہیں ملتا۔ بلکہ جب نذر کسی اور کے لیے بھی ہو تو وہ اس ہستی کی عبادت بن جاتی ہے اور اللہ کے حقوق میں شرک کہلاتا ہے۔ لہٰذا قرآن میں نذر کا ذکر ہمیشہ عبادت کے طور پر آیا ہے، اور وہ عبادت صرف اللہ کے لیے مشروع ہے، کسی ولی، نبی یا قبر والے کے لیے نہیں۔
إِذْ قَالَتِ امْرَأَتُ عِمْرَانَ رَبِّ إِنِّي نَذَرْتُ لَكَ مَا فِي بَطْنِي مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّي إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
جب کہا تھا عمران کی عورت نے اے میرے رب ! بیشک میں نے نذر مانی ہے تیرے حضور کہ جو کچھ میرے پیٹ میں ہے، وہ (تیرے نام پر) آزاد ہوگا سو قبول فرما مجھ سے، بیشک تو ہے ہر بات کا سننے والا، سب کچھ جاننے والا۔
(آل عمران:35)