|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

کیا سماعِ موتی کا عقیدہ شرک کا دروازہ کھول سکتا ہے؟

No media found.

قرآنِ مجید نے مردوں کی سماعت کے بارے میں جو فیصلہ کن اصول بیان کیا ہے وہ یہ ہے کہ مردہ نہیں سنتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَىٰ (النمل 80)یہ بنیاد ہی اس لیے رکھی گئی کہ بندہ مخلوق سے امید، خوف، توجہ اور حاجت کے دروازے نہ کھولے۔ جب انسان یہ گمان کر لے کہ قبر میں لیٹا ہوا مردہ سنتا ہے، اس کی آواز کو پہچانتا ہے، اس کی مشکل، دکھ، فریاد یا دعا سن سکتا ہے، تو یہ عین وہی راستہ ہے جو سابقہ امتوں میں شرک کے آغاز کا سبب بنا۔ قومِ نوح نے اسی سماعت اور تقرب کے خیال نے ان کو معبود بنا دیا تھا۔

نبی ﷺ اور صحابہؓ کے دور میں شرک سے بچانے کا پہلا اصول یہی تھا کہ فوت شدہ مخلوق نہ سنتی ہے، نہ نفع دیتی ہے، نہ نقصان پہنچا سکتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب مانگو تو اللہ ہی سے مانگو۔ (سنن ترمذی: كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم:2516)۔ اگر قبر والے کو سننے والا سمجھ لیا جائے تو انسان کا دل غیر اللہ کی طرف مائل ہو جاتا ہے، اور یہی شرک کا پہلا دروازہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ام المؤمنین عائشہؓ نے سماعِ موتی کے دعووں کو قرآن کے خلاف قرار دیا، تاکہ توجہ صرف اللہ پر قائم رہے، نہ کہ قبروں کی طرف منتقل ہو جائے۔

جب کسی کا یہ عقیدہ ہو جائے کہ مردہ اس کی پکار سنتا ہے، تو پھر وہ اس سے فریاد کرنے، اسے وسیلہ بنانے، اس کے نام کی نذر ماننے، اس کو حاضِر و ناظر سمجھنے اور اس کے سامنے اپنا حاجت نامہ پیش کرنے کی طرف جھکتا ہے۔ یہی وہ فتنہ ہے جسے قرآن نے شرک کی بنیاد کہا ہے(ملاحظہ ہوں؛الاحقاف:5 / فاطر:14)، کیونکہ مخلوق کو سننے والا سمجھتے ہی دل اس کے سامنے جھکنے لگتا ہے۔ یہی راستہ آج اولیاء کی قبروں سے قبروں کی چادر، چراغ، نیاز اور فریاد تک جا پہنچا ہے اور یہ سب سماعِ موتی کے غلط عقیدے کی ہی شاخیں ہیں۔

اس لیے شریعت  کا اصول یہ ہے کہ مردہ نہیں سنتا، اور مخلوق کو سننے والا ماننا شرک کی ابتدا ہے۔ قرآن نے اس عقیدے کا دروازہ بند کیا تاکہ عبادت، امید، خوف، نذر، دعا اور توجہ صرف اللہ ہی کی طرف رہے، جیسا کہ صحابہؓ کا دین اور نبی ﷺ کی تعلیم تھی۔ یہی راہ شرک سے بچاتی ہے اور یہی خالص ایمان ہے۔

Video Short Clips

Log In to Your Account