روح دنیا کے حالات کو نہیں سن سکتی اور نہ جان سکتی ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں روح اللہ کے قبضے اور حکم کے تابع ہے۔ دنیا کی خبر یا حال تک آزادانہ رسائی کا تصور باطل اور غیر شرعی ہے۔
وَمِنْ وَّرَاۗىِٕهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ
اور ان سب (مرنے والوں) کے پیچھے اس دن تک کے لیئے ایک پردہ ہے جس دن انہیں دوبارہ زندہ کر کے اٹھایا جائے گا۔
(المؤمنون 100)
اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِيْ لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِهَا ۚ فَيُمْسِكُ الَّتِيْ قَضٰى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْاُخْرٰٓى اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ
اللہ ہی روحوں کو ان کی موت کے وقت قبض کر لیتا ہے اور جن کی موت نہیں آئی ہوتی ان کو بھی ان کی نیند کی حالت میں (قبض کر لیتا ہے) پھر روک لیتا ہے ان (روحوں) کو جن کی موت کا فیصلہ کرتا ہے اور دوسری (روحوں) کو ایک مقررہ مُدّت تک چھوڑ دیتا ہے بےشک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غوروفکر کرتے ہیں۔(الزمر:42)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ روح صرف اللہ کی اجازت اور قبضے کے تابع اور دنیا سے منقطع ہے۔ دنیاوی واقعات یا لوگوں کے اعمال کے بارے میں سننا یا دیکھنا ممکن نہیں۔