اللہ تعالیٰ نے انسان کو دنیاوی اسباب اختیار کرنے کی ہدایت فرمائی ہے اور ساتھ ہی توکل پر زور دیا ہے تاکہ انسان جان لے کہ اصل اختیار اور نتائج صرف اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ فرمایا کہ
وَعَلَى اللَّهِ فَتَوَكَّلُوا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
اور اللہ پر بھروسہ کرو اگر تم مومن ہو۔
(سورہ المائدہ:23)
یہ آیت اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ مؤمن اللہ پر بھروسہ رکھیں، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ دنیاوی وسائل اور اسباب کو ترک کیا جائے۔ عقل اور تدبیر کے مطابق عمل کرو اور پھر اللہ پر توکل رکھو۔ لہذا اسباب اختیار کرنا اور توکل کرنا متضاد نہیں بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ مکمل ہم آہنگ ہیں۔ جیسے کھیتی کرنے والا بیج بوتا اور پانی دیتا ہے، لیکن پیداوار اللہ کے اختیار میں ہے، تو اس پر بھروسہ کرنا توکل ہے۔ صحابہؓ کی زندگی میں بھی یہ نظر آتا ہے، جیسے ابوبکرؓ اور عمرؓ نے جنگوں میں پوری تیاری کی اور پھر اللہ کی مدد پر بھروسہ کیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایمان صرف توکل سے مکمل نہیں ہوتا بلکہ اسباب کے ساتھ توکل ہی حقیقی توکل ہے۔