|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

کیا تعویذات کا استعمال توحید کے دائرے میں آتا ہے؟

No media found.

اسلام میں توحید کا تقاضا یہ ہے کہ بندہ ہر قسم کے شرکیہ وسیلوں سے اپنا تعلق ختم کرے اور شفا، حفاظت یا برکت کے لیے صرف اللہ پر بھروسہ رکھے۔ تعویذات خواہ قرآنی ہوں یا غیر قرآنی، انسان کے دل کو اللہ کے بجائے کسی مخلوق یا شے پر اعتماد کی طرف مائل کرتے ہیں، اس لیے یہ توحید کے منافی ہیں۔

قُلْ أَفَرَأَيْتُم مَّا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ إِنْ أَرَادَنِيَ اللَّهُ بِضُرٍّ هَلْ هُنَّ كَاشِفَاتُ ضُرِّهِ أَوْ أَرَادَنِي بِرَحْمَةٍ هَلْ هُنَّ مُمْسِكَاتُ رَحْمَتِهِۚ قُلْ حَسْبِيَ اللَّهُ عَلَيْهِ يَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكِّلُونَ۝
کہو: بھلا دیکھو تو جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، اگر اللہ مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو کیا وہ اس نقصان کو دور کر سکتے ہیں؟ یا اگر وہ مجھ پر رحم فرمانا چاہے تو کیا وہ اس کی رحمت کو روک سکتے ہیں؟ کہو: میرے لیے اللہ ہی کافی ہے، اسی پر بھروسہ کرنے والے توکل کرتے ہیں۔
(الزمر: 38)

نبی ﷺ نے فرمایا
مَن عَلَّقَ تَمِيمَةً فَقَدْ أَشْرَكَ
جس نے کوئی تعویذ لٹکایا، اس نے شرک کیا۔
مسند أحمد بن حنبل – مسند الشاميين – حديث عقبة بن عامر الجهني: 17422

تعویذ، چاہے اس میں قرآن کی آیات ہوں یا نہ ہوں دونوں اقسام شرک ہیں۔ نبی ﷺ اور صحابہؓ نے کبھی بھی قرآنی تعویذ باندھنے کا حکم نہیں دیا، بلکہ دم، دعا اور تلاوت سے شفا کی تعلیم دی۔ لہٰذا توحید کا تقاضا یہی ہے کہ بندہ ہر قسم کے تعویذ سے اجتناب کرے اور یقین رکھے کہ شفا، حفاظت اور برکت صرف اسی اللہ وحدہٗ لا شریک له کے حکم سے ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی تقدیر ہے۔

Video Short Clips

Log In to Your Account