|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

کیا تصوف میں فنا فی الشیخ کا تصور توحید سے میل کھاتا ہے؟

No media found.

نہیں، تصوف کا کوئی تصور توحید خالص پر مبنی نہیں ہے اسی طرح فنا فی الشیخ کا تصور توحید سے میل نہیں کھاتا۔ قرآن مجید نے بندگی کو صرف اللہ کے لیے خاص قرار دیا ہے

قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ۝ اللَّهُ الصَّمَدُ۝ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ۝ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ۝
کہہ دو! وہ اللہ ایک ہے، اللہ بے نیاز ہے، نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا، اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے۔
(الإخلاص 1–4)

فنا فی الشیخ یعنی اپنے شیخ میں اس طرح محو ہو جانا کہ اس کی رضا، ارادہ اور شعور میں فنا سمجھی جائے یہ دراصل انسان کو اللہ کی بندگی سے ہٹا کر ایک مخلوق کے سامنے جھکانے والی باطنی بدعت ہے۔ نبی کریم ﷺ نے عبادت، اطاعت اور روحانی وابستگی کو صرف اللہ کے لیے خاص کیا۔
اور فرمایا
مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ
جس نے ہمارے دین میں کوئی نئی بات داخل کی جو اس میں نہیں تھی، وہ مردود ہے۔
صحيح مسلم – كتاب الْأقضية – باب نقض الْأحكام الباطلة ورد محدثات الْأمور: 1718

لہٰذا  فنا فی الشیخ  یا  شیخ میں گم ہو جانا  کا تصور توحیدِ خالص کے منافی ہے،دوڑ صرف اللہ کی طرف ہونی چاہئے جیسا فرمایا کہ  فَفِرُّوا إِلَى اللَّهِ(  الذاریات :50)  اللہ ہی کی طرف بھاگو۔ بندگی، محبت، اور خود کو کھپانے  کا مرکز صرف خالق ہونا چاہیے، نہ کہ کوئی مخلوق۔

Video Short Clips

Log In to Your Account