جی ہاں، ایمان میں کمی اور بیشی ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا
لِيَزْدَادُوا إِيمَانًا مَّعَ إِيمَانِهِمْ
تاکہ وہ اپنے ایمان کے ساتھ اور زیادہ ایمان میں بڑھ جائیں۔
(الفتح: 4)
اسی طرح فرمایا
وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا
اور جب ان پر اس کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے۔
(الانفال: 2)
نبی کریم ﷺ نے فرمایا
الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ أَوْ بِضْعٌ وَسِتُّونَ شُعْبَةً ، فَأَفْضَلُهَا قَوْلُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ ، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ ایمان کی ستر سے کچھ اوپر یا ساٹھ سے کچھ اوپر شاخیں ہیں۔ ان میں سب سے افضل ‘لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ’ کہنا ہے، اور سب سے ادنیٰ راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا ہے، اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔
صحيح مسلم – كتاب الإيمان – باب شعب الإيمان:35
یعنی نیک اعمال سے ایمان بڑھتا ہے اور گناہوں سے کم ہو جاتا ہے۔