جی ہاں، اولیاء کے نام پر منت ماننا توحیدِ عبادت کے خلاف ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا
قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ ۖ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ
کہہ دو! بے شک میری صلاۃ، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت سب اللہ ربّ العالمین کے لیے ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے۔
(الأنعام 162–163)
منت یا نذر دراصل عبادت کی ایک قسم ہے، کیونکہ یہ کسی کے لیے نفع یا برکت حاصل کرنے کے ارادے سے مانی جاتی ہے، لہٰذا اگر یہ عمل اللہ کے بجائے کسی ولی، بزرگ یا نبی کے نام پر ہو تو وہ شرکِ عبادت میں داخل ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا
مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ فَلْيُطِعْهُ، وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَهُ فَلَا يَعْصِهِ
جس نے اللہ کی اطاعت کی نذر مانی، وہ اسے پورا کرے، اور جس نے گناہ کی نذر مانی، وہ اسے پورا نہ کرے۔
(صحیح بخاری، حدیث 6696)
لہٰذا اولیاء کے نام پر منت ماننا، خواہ کسی مزار پر ہو یا کسی بزرگ کے وسیلے سے، یہ توحیدِ عبادت کے منافی اور شرک کے قریب عمل ہے۔ خالص نذر و منت صرف اللہ کے لیے جائز ہے کیونکہ عبادت کا حق صرف اسی کو حاصل ہے۔