اللہ تعالیٰ ہی مدد کرنے والا ہے، اولیاء زندہ انسانوں کی مدد نہیں کر سکتے، کیونکہ یہ اختیار صرف اللہ کے پاس ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
وَإِن يَمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ ۖ وَإِن يُرِدْكَ بِخَيْرٍ فَلَا رَادَّ لِفَضْلِهِ
اور اگر اللہ تجھے کوئی نقصان پہنچائے تو اس کے سوا کوئی اس کو دور کرنے والا نہیں، اور اگر وہ تیرے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرے تو اس کے فضل کو کوئی روکنے والا نہیں۔
(یونس، 10:107)
نبی ﷺ نے بھی اپنی امت کو واضح کر دیا کہ اللہ کے سوا کسی سے مدد مانگنا شرک ہے
إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللّٰهَ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللّٰهِ
جب سوال کرو تو اللہ سے کرو، اور جب مدد چاہو تو اللہ سے مدد چاہو۔
(جامع ترمذی، حدیث 2516)
لہٰذا اولیاء اللہ اپنی زندگی میں بھی اللہ کے حکم کے بغیر کسی کو نفع یا ضرر نہیں پہنچا سکتے، اور ان کی وفات کے بعد تو یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ حاضر و ناظر ہو کر مدد کرتے ہیں، یہ صریح شرک ہے۔