اللہ کے اولیاء سے غیبی مدد مانگنا ایمان کو صرف ہلکا سا متاثر نہیں کرتا بلکہ ایمان کو ختم کر دیتا ہے کیونکہ یہ توحیدِ عبادت کے منافی ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے صریح فرمایا
وَلَا تَدْعُ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَنْفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَ، فَإِنْ فَعَلْتَ فَإِنَّكَ إِذًا مِّنَ الظَّالِمِينَ
اور اللہ کے سوا ایسے کو مت پکارو جو نہ تمہیں نفع دے سکتا ہے اور نہ نقصان، اگر تم نے ایسا کیا تو یقیناً تم ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔
(یونس 106)
غیبی مدد یعنی ایسا تعاون جو انسانی اسباب سے بالا ہو، صرف اللہ سے مانگا جا سکتا ہے، کیونکہ وہی سَمِیع و قدیر ہے۔ اولیاء اللہ سے محبت اور دعا میں یاد کرنا تو جائز ہے، مگر ان سے مدد یا مشکل کشائی مانگنا شرکِ اکبر ہے، جیسا کہ سابقہ امتوں نے اپنے صالحین کو مددگار بنا لیا تو وہ ہلاک ہو گئیں۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا
إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللَّهَ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ
جب مانگو تو اللہ سے مانگو، اور جب مدد چاہو تو اللہ ہی سے مدد چاہو۔
جامع الترمذي – أبواب صفة القيامة والرقائق والورع :2156
لہٰذا انبیاء و اولیاء سے غیبی مدد طلب کرنا ایمان کو منہدم کر دیتا ہے، کیونکہ اس میں اللہ کی ربوبیت اور الوہیت میں غیر کو شریک کیا جاتا ہے، اور یہ شرک کے زمرے میں آتا ہے۔