اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا اقرار اور عبادت میں شرک کے تعلق کو سمجھنا ضروری ہے۔ صرف یہ کہ ہم اللہ کو سب کا رب مان لیں کافی نہیں، بلکہ عبادت، دعا، نذر صرف اللہ کے لیے ہونی چاہیے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
مَا لَهُمْ مِّنْ وَّلِيٍّ وَّلَا نَصِيْرٍ
ان کا کوئی مددگار یا کارساز نہیں۔
(الشوریٰ: 8)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اللہ ہی ہر مخلوق کا مالک اور مددگار ہے۔ ربوبیت کا اقرار صرف یہ نہیں کہ ہم جان لیں کہ اللہ سب کا مالک ہے، بلکہ عبادت اور وسیلہ صرف اسی کی طرف ہونا ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص کسی ولی، نبی یا مخلوق سے مستقل مدد طلب کرے تو یہ توحیدِ الٰہی میں شرک ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا
مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ
جو بھی ہمارے دین میں ایسا کام پیدا کرے جو اس کا حصہ نہ ہو، وہ مردود ہے۔
صحيح مسلم – كتاب الْأقضية – باب نقض الْأحكام الباطلة ورد محدثات الْأمور:1718
صحابہ کرامؓ اللہ کی ربوبیت پر ایمان رکھتے اور عبادت، دعا و نذر صرف اللہ کے لیے کرتے تھے۔ کسی ولی یا نبی کومافوق الاسباب مدد کے لیے نہیں پکارا کرتے تھے۔ اللہ کی ربوبیت کا اقرار اکیلا کافی نہیں، عبادت میں کسی کو شریک کرنا ایمان کے خلاف اور شرک میں شمار ہوتا ہے، اور عبادت، دعا اور امید ہمیشہ اللہ کے لیے ہونی چاہیے۔