جی ہاں بلکل، اطاعتِ رسول ﷺ ایمان کا لازمی جز ہے اور ایمان کی تکمیل کے لیے ضروری ہے کہ انسان نہ صرف زبان و دل سے رسول ﷺ کی تصدیق کرے بلکہ ان کے حکم اور سنت کی پیروی بھی کرے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
مَن يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ
جو رسول کی اطاعت کرے وہ اللہ کی اطاعت کر چکا ہے۔
(النساء: 80)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ رسول ﷺ کی اطاعت ایمان کی بنیادی شرط ہے۔ صرف زبانی اقرار یا دل کی تصدیق کافی نہیں، بلکہ عملی اطاعت بھی ایمان کے حصہ کے طور پر لازم ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا
مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ
جو میری اطاعت کرے اس نے اللہ کی اطاعت کی، اور جو میری نافرمانی کرے اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔
صحيح البخاري – كتاب الجهاد والسير – باب يقاتل من وراء الإمام ويتقى به: 7282
صحابہ کرامؓ ہمیشہ زبان، دل اور عمل میں رسول ﷺ کی اتباع کرتے تھے۔ ان کی زندگی کے ہر پہلو میں سنت رسول ﷺ کی پیروی نظر آتی تھی، یہی ایمان کی کامل نشانی تھی۔ لہذا ایمان کا مکمل ہونا صرف زبانی تصدیق یا دل کی یقین دہانی سے ممکن نہیں،یہ رسول ﷺ کی اطاعت کے بغیر ایمان کامل نہیں ہوتا۔