|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

کیا اجتہادی اختلاف فرقہ نہیں؟

No media found.

اجتہادی اختلاف فرقہ نہیں ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ ، وَإِذَا حَكَمَ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ
جب حاکم  قاضی یا اہلِ علم  اجتہاد کرے اور صحیح فیصلہ کرے تو اس کے لیے دو اجر ہیں، اور اگر اجتہاد کرے اور غلطی کر بیٹھے تو اس کے لیے ایک اجر ہے۔
 صحيح البخاري – كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة – باب أجر الحاكم إذا اجتهد فأصاب أو أخطأ: 7352
یعنی اجتہاد کی بنیاد پر اختلاف میں خطا بھی ہو جائے تو وہ باعثِ گناہ نہیں بلکہ اجر کا سبب ہے۔

غزوۂ بنی قریظہ کے موقع پر نبی ﷺ نے فرمایا: کوئی عصر کی نماز بنی قریظہ کے علاوہ نہ پڑھے۔
کچھ صحابہؓ نے راستے میں پڑھ لی کہ وقت نکل نہ جائے، کچھ نے کہا عین حکم کی تعمیل کریں گے اور وہاں جا کے پڑھیں گے۔ نبی ﷺ نے دونوں کو درست قرار دیا  ۔

صحيح البخاري – أبواب صلاة الخوف – باب حدثنا عبد الله بن محمد بن أسماء: 946

 یہ اجتہادی اختلاف تھا، فرقہ نہیں۔

اصولی فرق یہ ہے کہ اجتہادی اختلاف میں وحی کو اصل مانا جاتا ہے جبکہ فرقہ بندی میں وحی کو چھوڑ کر اپنے مسلک کو اصل بنایا جاتا ہے۔

Video Short Clips

Log In to Your Account