|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

کیا ابوبکرؓ کی خلافت قرآن سے ثابت ہے؟

No media found.

قرآن نے اہل ایمان کی اجتماعی قیادت کے انتخاب کا اصول “مشاورت” قرار دیا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے
وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ
اور جو اپنے رب کی بات مانتے ہیں، صلوۃ قائم کرتے ہیں، اور اُن کا کام آپس کے مشورے سے طے ہوتا ہے، اور ہم نے جو انہیں رزق دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔
(الشورى:38)

اسی اصول کے تحت نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد صحابہ کرامؓ نے اہل حل و عقد کے مشورے اور بیعت کے ذریعے ابوبکرؓ کو خلیفہ منتخب کیا۔ یہ بیعت صحابہ کی اجماعی تائید پر مبنی تھی اور اسی کو قرآن کے اصول “شوریٰ” کے عین مطابق سمجھا گیا۔ اس سے یہ واضح ہوا کہ خلافت براہ راست نص قرآنی سے کسی شخص کے نام پر مقرر نہیں تھی، بلکہ اہل ایمان کی باہمی مشاورت اور اجماع سے قائم ہوئی۔

Video Short Clips

Log In to Your Account