اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ
فَأَمَّا مَن ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُۥ فَهُوَ فِى عِيشَةٍۢ رَّاضِيَةٍۢ
پھر جس کے ترازو بھاری ہوں گے، وہ خوش و خرم زندگی میں ہوگا۔
(سورۃ القارعہ: 6-7)
یعنی جس مومن کے نیک اعمال وزن میں زیادہ ہوں گے، وہ اللہ کی رضا اور جنت کی نعمتوں میں داخل ہوگا۔ یہ اس کے ایمان، اخلاص اور نیک نیت عمل کا صلہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو معاف فرما دے گا اور اسے دائمی راحت عطا کرے گا۔
نبی ﷺ نے فرمایا
كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ، ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ، حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمٰنِ سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيمِ ، سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ
دو کلمے ایسے ہیں جو زبان پر ہلکے، میزان میں بھاری اور رحمن کو محبوب ہیں: سبحان اللہ العظیم ،سبحان اللہ وبحمدہ
صحيح بخاري:كتاب الدعوات:حدیث: 6406
نجات کا معیار صرف اللہ کی رضا اور اخلاصِ ایمان ہے، نیکیوں کی قبولیت بھی اسی کے ہاتھ میں ہے، اور یہی کامیاب مومن کی اصل سعادت ہے۔