محبتِ رسول ﷺ کا حقیقی تقاضا اطاعت ہے، عبادت نہیں۔ نبی کریم ﷺ کی ذات اطاعت کے لیے ہے، عبادت کے لیے نہیں، کیونکہ عبادت صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔ رسول ﷺ کی محبت کا مطلب یہ ہے کہ ان کے لائے ہوئے دین کو دل سے مانا جائے، ان کی سنت کی پیروی کی جائے، اور ان کے طریقے پر زندگی بسر کی جائے۔ تب ہی سچا ہوتا ہے جب انسان آپ کی سنت اور حکم کی پیروی کرے۔ نبی ﷺ خود بندگی کے سب سے کامل نمونہ ہیں، اس لیے محبت کا راستہ اطاعت سے گزرتا ہے، نہ کہ آپ کی ذات کی عبادت سے
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
مَّن يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ
جس نے رسول کی اطاعت کی، اس نے دراصل اللہ کی اطاعت کی۔
(سورۃ النساء: 80)
اس سے واضح ہوتا ہے کہ نبی ﷺ سے محبت کا عملی ثبوت ان کی کامل پیروی ہے۔ اگر کوئی محبت کا دعویٰ کرے مگر سنت کو چھوڑ دے یا عبادت میں غلو کرے تو وہ محبت نہیں بلکہ انحراف ہے۔ سچی محبت وہی ہے جو اطاعت میں ظاہر ہو۔