|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

ما أنا عليه وأصحابي والی حدیث کے مطابق، امت کی نجات کا معیار کیا ہے؟

No media found.

نبی ﷺ کی حدیث ما أنا عليه وأصحابي کے مطابق امت کی نجات کا معیار صرف اور صرف وہ دین ہے جس پر نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نجات یافتہ گروہ ہے جووہ وہی قرآن و سنت کو صحابہؓ کے فہم کے مطابق مانتا اور اس پر عمل کرتا ہے، نہ کہ اپنے مسلک، فرقے یا زمانے کے علما کی آراء پر۔

قرآن مجید نے بھی اسی راہ کو نجات کا معیار قرار دیا ہے
وَمَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصْلِهٖ جَهَنَّمَ ۭ وَسَاۗءَتْ مَصِيْرًا۝
اور جو شخص ہدایت واضح ہونے کے بعد رسول کی مخالفت کرے اور مومنوں  یعنی صحابہ  کے راستے کے خلاف چلے، ہم اسے اسی طرف پھیر دیں گے جدھر وہ گیا، اور جہنم میں داخل کریں گے، وہ بہت بری جگہ ہے۔ النساء: 115

حدیث میں نبی ﷺ نے فرمایا
وَإِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ تَفَرَّقَتْ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً ، وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةً ، كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلَّا مِلَّةً وَاحِدَةً. قَالُوا: وَمَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي

بنی اسرائیل بہتر (72) فرقوں میں بٹ گئے تھے، اور میری امت تہتر (73) فرقوں میں بٹ جائے گی۔ ان میں سے ایک گروہ کے سوا سب جہنم میں ہوں گے۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ کون سا گروہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ جو اس راستے پر ہوگا جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔

جامع الترمذي – أبواب الإيمان عن رسول الله صلى الله عليه وسلم – ما جاء في افتراق هذه الأمة:2641

 پس نجات کا معیار صرف اتباعِ قرآن و سنت بفہمِ صحابہؓ ہے۔ جو امت اسی راہ  پر قائم ہے، وہی اہلِ توحید و نجات ہے، اور جو قوم اس فہم سے ہٹ گئی، وہ خواہ کتنی ہی عبادت گزار ہو، نجات یافتہ نہیں ہو سکتی۔

Video Short Clips

Log In to Your Account