اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ
وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ
اس دن بہت سے چہرے تروتازہ ہوں گے، اپنے رب کو دیکھ رہے ہوں گے۔
(القیامۃ: 22-23)
یہ آیت واضح طور پر اس بات کی دلیل ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کا دیدار صرف اہلِ ایمان کے لیے خاص ہوگا۔ وہی لوگ جنہوں نے دنیا میں ایمان کے ساتھ عملِ صالح کیا، اپنے رب کو یاد رکھا اور اس کی عبادت میں شرک سے بچے، ان کے لیے آخرت میں سب سے بڑی نعمت اللہ تعالیٰ کی زیارت ہوگی۔
نبی ﷺ نے فرمایا
جریر رضی اللہ عنہ نے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے تھے کہ آپ نے چاند کی طرف دیکھا، چودھوریں رات کا چاند تھا اور فرمایا کہ تم لوگ اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے جس طرح اس چاند کو دیکھ رہے ہو اور اس کے دیکھنے میں کوئی دھکم پیل نہیں ہو گی۔ پس اگر تمہیں اس کی طاقت ہو کہ سورج طلوع ہونے کے پہلے اور سورج غروب ہونے کے بعد کی نمازوں میں سستی نہ ہو تو ایسا کر لو۔
(صحيح البخاري:كتاب التوحيد:حدیث: 7434)
یہ دیدار اہلِ ایمان کے لیے جنت کی سب سے عظیم نعمت ہوگی، جب کہ کافر و منافق اس نعمت سے ہمیشہ کے لیے محروم رہیں گے
جیسا کہ فرمایا
كَلَّا إِنَّهُمْ عَن رَّبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوبُونَ
اس دن وہ اپنے رب سے پردے میں رکھے جائیں گے۔
(المطففین: 15)
یہی توحید کا کمال انعام ہے کہ ایمان والوں کو اپنے رب کا قرب اور دیدار نصیب ہوگا۔