|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عدل اور فضل میں کیا فرق ظاہر ہوگا؟

No media found.

قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عدل اور فضل دونوں کا واضح مظاہرہ ہوگا، لیکن ہر ایک کا مظاہرہ مختلف پہلوؤں سے ہوگا۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا ۖ وَإِن كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍۭ مِّنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا ۗ وَكَفَىٰ بِنَفْسِكَ عَدِيلًا
اور ہم قیامت کے دن عدل کے ترازو رکھیں گے تاکہ کسی نفس پر ظلم نہ ہو۔ اگرچہ وہ ذرّہ برابر بھی ہو، ہم اسے پیش کر دیں گے، اور تم پر بھی عدل کرنے والا کافی ہے۔
(الانبیاء: 47)

نبی ﷺ نے فرمایا
ما من شيء اثقل في الميزان من حسن الخلق
(قیامت کے دن) میزان میں خوش خلقی سے زیادہ بھاری کوئی چیز نہ ہو گی۔
(سنن ابي داود:كتاب الأدب:حدیث: 4799)

عدل (انصاف)

اللہ تعالیٰ ہر عمل کو اس کی اصل قیمت اور نیت کے مطابق پرکھیں گے۔ کسی پر ظلم نہ ہوگا، حتیٰ کہ سب سے چھوٹے اعمال بھی پیش کیے جائیں گے۔

فضل (رحمت)

جو اعمال کمزور یا معمولی دکھائی دیں، اللہ کے فضل سے ان کا اجر بڑھایا جائے گا۔ گناہگاروں کو جزا میں کمی یا معافی مل سکتی ہے، اور مومنوں کو اضافی نعمتیں دی جائیں گی۔

قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کا عدل ہر چیز کو حق کے مطابق تولے گا، اور فضل اس بات کی نشانی ہوگا کہ وہ اپنے بندوں پر رحم کرنے والا، بخشنے والا اور فیاض ہے۔ اس دن مومنوں کو انصاف کے ساتھ ساتھ اللہ کے فضل و رحمت کی نعمت بھی حاصل ہوگی۔

Video Short Clips

Log In to Your Account