قرآن کے مطابق قیامت کے دن انسان کے اپنے اعضا آنکھیں، کان، اور جلد اس کے خلاف گواہی دیں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
حَتَّىٰ إِذَا مَا جَاءُوهَا شَهِدَ عَلَيْهِمْ سَمْعُهُمْ وَأَبْصَارُهُمْ وَجُلُودُهُم بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
اس دن جب مجرم جہنم کے قریب کیے جائیں گے تو ان کے کان، آنکھیں اور جلد ان کے اعمال کی گواہی دیں گے یعنی جو کچھ وہ دنیا میں کرتے رہے، وہی اعضا زبانِ حال سے بیان کر دیں گے۔
(سورۃ فصلت: 20)
قیامت کے دن انسان کا کوئی انکار معتبر نہیں ہوگا، کیونکہ اس کا اپنا وجود گواہ بن جائے گا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے، وہ اعضا کو بولنے کی طاقت دے گا۔ یہ منظر انسان کو یاد دلاتا ہے کہ دنیا میں کی گئی ہر نگاہ، ہر بات اور ہر لمس کا حساب ہو گا۔کوئی زبان جھوٹ بول سکتی ہے، مگر آنکھ، کان اور جلد جھوٹ نہیں بولیں گے۔ یہ عدلِ الٰہی کا کمال ہے کہ گناہ کے آلات خود ثبوت بن جائیں۔ یعنی آج جو اعضا گناہ کے ساتھی ہیں، کل وہی عدالتِ الٰہی میں گواہ بن جائیں گے۔