قومِ نوحؑ کے کافر سردار نوحؑ علیہ السلام کی دعوت پر یہ طعنہ دیا کرتے تھے کہ آپ کے ماننے والے تو کمزور اور غریب لوگ ہیں، ہم ان کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتے۔ وہ ایمان کو کمزوری اور غربت کی علامت سمجھتے تھے۔ فرمایا
فَقَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن قَوْمِهِ مَا نَرَاكَ إِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا وَمَا نَرَاكَ اتَّبَعَكَ إِلَّا الَّذِينَ هُمْ أَرَاذِلُنَا بَادِيَ الرَّأْيِ
تو اس کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے ہم تجھے تو اپنے ہی جیسا انسان دیکھتے ہیں اور ہم تیرے پیروکاروں کو اپنی قوم کے کمزور اور کمتر لوگ سمجھتے ہیں۔
(ہود: 27)
یعنی ان کے نزدیک معیارِ حق دولت، طاقت اور مرتبہ تھا، نہ کہ توحید اور اللہ کی اطاعت۔ یہ نصیحت ہے کہ اہلِ ایمان کے لیے اصل معیار توحید اور عملِ صالح ہے، نہ کہ دنیاوی مرتبہ یا طاقت، اور قومِ نوحؑ کا یہی تکبر ان کی ہلاکت کا سبب بنا۔