|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

قومِ عاد نے اللہ کے عذاب کو کس چیز کے ساتھ تشبیہ دی تھی؟

No media found.

قومِ عاد نے اللہ کے عذاب یعنی شدید آندھی کو ابتدا میں بارش کے بادل سمجھ لیا تھا۔

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
فَلَمَّا رَاَوْهُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِيَــتِهِمْ ۙ قَالُوْا ھٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا ۭ بَلْ هُوَ مَا اسْـتَعْــجَلْتُمْ بِهٖ ۭرِيْحٌ فِيْهَا عَذَابٌ اَلِيْمٌ ۝
پھر جب انہوں نے اسے (بادل) دیکھا جو ان کی وادیوں کی طرف بڑھتا ہوا تھا، تو کہنے لگے یہ تو بادل ہے جو ہم پر بارش برسائے گا۔ نہیں! بلکہ یہ وہ عذاب ہے جس کے لیے تم جلدی مچا رہے تھے ایک آندھی ہے جس میں دردناک عذاب ہے۔
(سورۃ الأحقاف: 24)

یعنی قومِ عاد نے جب اللہ کا عذاب آتے دیکھا، تو وہ اسے رحمت (بارش) سمجھ بیٹھے، حالانکہ وہ عذاب و ہلاکت کا بادل تھا، جو کئی دن اور رات چلتا رہا اور ان سب کو مٹا کر رکھ دیا۔

اللہ جب کسی قوم پر عذاب بھیجتا ہے تو بسا اوقات وہ رحمت کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے تاکہ انسان کا تکبر اور آزمائش ظاہر ہو۔
یہ واقعہ یاد دلاتا ہے کہ اللہ کی نشانیوں کو دنیاوی فائدے یا ظاہری اسباب سے نہیں پرکھنا چاہیے، بلکہ ایمان اور تقویٰ کے ساتھ دیکھنا چاہیے۔

Video Short Clips

Log In to Your Account