قومِ ثمود کو اللہ نے صالحؑ کے ذریعے ایک عظیم معجزہ دکھایا، یعنی ایک زندہ اونٹنی جو چٹان سے نکل کر سامنے آئی۔ یہ اللہ کی نشانی تھی تاکہ وہ توحید کو مانیں اور اپنے باطل معبود چھوڑ دیں۔ لیکن انہوں نے انکار کیا، تکبر کیا اور اس اونٹنی کو قتل کر دیا، جس پر وہ ہلاک کر دیے گئے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
وَيٰقَوْمِ هٰذِهٖ نَاقَــةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰيَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِيْٓ اَرْضِ اللّٰهِ وَلَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْۗءٍ فَيَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَرِيْبٌ فَعَقَرُوْهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوْا فِيْ دَارِكُمْ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ ۭذٰلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوْبٍ
یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لیے نشانی ہے، اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں کھائے اور اسے کسی برائی سے نہ چھیڑو ورنہ تمہیں قریب ہی عذاب آ لے گا۔ پھر انہوں نے اسے پچھاڑ ڈالا، تو صالح نے کہا اپنے گھروں میں تین دن اور فائدہ اٹھا لو، یہ وعدہ جھوٹا نہیں۔
(ھود: 64-65)
یہ معجزہ اللہ کی توحید پر دلیل تھا، مگر قومِ ثمود نے اسے جھٹلایا اور نشانی کو مٹا دینا چاہا۔ آج بھی جب لوگ اللہ کی آیات کو دیکھ کر انکار کرتے ہیں یا دین کی واضح دلیل کو رد کرتے ہیں تو وہ اسی روش پر چلتے ہیں جو قومِ ثمود کی ہلاکت کا سبب بنی۔ لہذا نجات صرف اس میں ہے کہ اللہ کی نشانیوں کے آگے جھکیں اور توحید و سنت کو قبول کریں اور اس پر عمل کریں اور دوسروں تک پہنچائیں۔