اللہ تعالیٰ نے قرآن میں قیامت کے ہولناک اور فیصلہ کن منظر کو ظاہر کرنے کے لیے مختلف نام ذکر فرمائے، جن میں الطَّامَّةُ الْكُبْرَىٰ اور الصَّاخَّةُ خاص طور پر شدت، دہشت اور آخری فیصلے کی عظمت کو ظاہر کرتے ہیں۔
فَإِذَا جَاءَتِ الطَّامَّةُ الْكُبْرَىٰ
پس جب وہ بڑی آفت (طامۂ کبریٰ) آ جائے گی۔
(النّازعات 34)
یہ لفظ طامّہ اس مصیبت کو کہتے ہیں جو ہر چھوٹی بڑی مصیبت پر غالب آ جائے یعنی وہ گھڑی جب ہر دل دہل جائے گا، ہر رشتہ ٹوٹ جائے گا، اور انسان اپنے ہی انجام سے بے خبر ہو جائے گا۔ یہ عذاب، حساب، اور فیصلے کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔
اسی طرح فرمایا
فَإِذَا جَاءَتِ الصَّاخَّةُ
پھر جب کانوں کو بہرا کر دینے والی چیخ آ پڑے گی۔
(عبس :33)
صاخّہ کا مطلب ہے ایسی آواز جو سننے کی طاقت چھین لے، یعنی صور کی وہ گونج جس سے مردے زندہ ہوں گے، زمین پھٹ جائے گی، اور کائنات لرز اٹھے گی۔ ان دونوں الفاظ الطامۃ الکبریٰ اور الصاخة کے ذریعے قرآن نے قیامت کی شدت، عظمت، اور ہولناکی کو بیان کیا تاکہ انسان ڈرے، سنبھلے، اور اس دن کی تیاری ایمان و عملِ صالح سے کرے۔