اللہ تعالیٰ نے قرآن میں سبا کی بستیوں کو آباد، سرسبز اور ایک دوسرے کے قریب قریب بیان کیا ہے تاکہ لوگ سکون اور شکر کے ساتھ زندگی گزاریں۔
وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْقُرَى الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَقَدَّرْنَا فِيهَا السَّيْرَ ۖ سِيرُوا فِيهَا لَيَالِيَ وَأَيَّامًا آمِنِينَ
اور ہم نے ان اور ان بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکت دی تھی، نمایاں بستیاں رکھیں اور ان میں چلنے کا اندازہ مقرر کیا۔ کہ ان میں راتوں اور دنوں کو اطمینان کے ساتھ چلتے رہو۔
(سبأ: 18)
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ سبا کی بستی ایک نہایت ترقی یافتہ اور پرامن جگہ تھی، جہاں رہائش اور سفر دونوں آسان تھے۔ بستیاں قریب قریب تھیں، راستے محفوظ اور رزق فراوانی سے میسر تھا۔ یہ اس بات کی نصیحت ہے کہ کسی قوم کی ترقی اور سہولتیں اسی وقت قائم رہتی ہیں جب وہ اللہ کی شکر گزار ہو اور اس کے حکم کے مطابق چلے، ورنہ زمین کی جنت بھی اجڑ جاتی ہے۔