|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

قرآن نے اصحابِ کہف کے غاز میں سورج کے جھکنے کو کس طرح بیان کیا؟

No media found.

اللہ تعالیٰ نے اصحابِ کہف کے غار میں سورج کے جھکنے کا منظر یوں بیان فرمایا

وَتَرَى الشَّمْسَ اِذَا طَلَعَتْ تَّزٰوَرُ عَنْ كَهْفِهِمْ ذَاتَ الْيَمِيْنِ وَاِذَا غَرَبَتْ تَّقْرِضُهُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ وَهُمْ فِيْ فَجْــوَةٍ مِّنْهُ ۭ ذٰلِكَ مِنْ اٰيٰتِ اللّٰهِ
اور تم دیکھتے کہ جب سورج نکلتا تو ان کے غار سے دائیں طرف ہٹ جاتا، اور جب غروب ہوتا تو بائیں طرف کتراتا گزر جاتا، اور وہ (اصحابِ کہف) اس کے اندر کشادہ جگہ میں تھے۔
(سورۃ الکہف :17)

یہ اس بات کی نشانی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے قدرتی طور پر سایہ اور راحت کا انتظام کر رکھا تھا سورج کی شعاعیں ان پر براہِ راست نہیں پڑتی تھیں، تاکہ وہ طویل نیند میں بھی محفوظ اور سلامت رہیں۔

Video Short Clips

Log In to Your Account