|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

قرآن نے اختلاف کے حل کے لیے واضح اصول کیا دیا ہے؟

No media found.

اللہ تعالیٰ نے اختلاف کے حل کے لیے قرآن میں ایک جامع اور قطعی اصول بیان فرمایا

اللی نے فرمایا کہ
فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِی شَیْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللّٰهِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا
پس اگر تم کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو، اگر تم اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہو، یہی بہتر ہے اور انجام کے لحاظ سے اچھا ہے۔
(النساء: 59)

یہی اصل اصول ہے کہ ہر دینی، فکری یا عملی اختلاف کو قرآن و سنت کی طرف رجوع کر کے حل کیا جائے۔ صحابہ کرامؓ کے درمیان جب کوئی اختلاف پیش آتا تو وہ فوراً یہ دیکھتے کہ اللہ کے رسول ﷺ کا اس بارے میں کیا حکم یا عمل تھا۔ اس سے امت میں اتفاق اور ایمان کی مضبوطی پیدا ہوتی۔

آج بھی اختلافات کے خاتمے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ ہر قول، مسلک، اور رائے کو قرآن و سنت کے تابع رکھا جائے، نہ کہ شخصیات یا گروہوں کے تابع۔ یہی ایمان کی علامت اور توحید پر مبنی اجتماعی وحدت کا راستہ ہے۔

Video Short Clips

Log In to Your Account