اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ
يَوْمَ تُبْلَى السَّرَائِرُ
جس دن پوشیدہ راز ظاہر کر دیے جائیں گے۔
(الطارق: 9)
یہ دن قیامت کا دن ہے، جب ہر انسان کے دل کے چھپے ارادے، نیتیں، اور اعمال کی حقیقت کھول دی جائے گی۔ وہاں نہ زبان کی ظاہری صفائی کام آئے گی، نہ دنیاوی حیثیت؛ بلکہ نجات صرف خالص نیت اور عملِ صالح والے کو ملے گی۔
نبی ﷺ نے فرمایا
إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ وَلَكِنْ إِنَّمَا يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ
اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور مال و دولت کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔
مسند أحمد بن حنبل – مسند أبي هريرة رضي الله عنه: 11116
یعنی يَوْمَ تُبْلَى السَّرَائِرُ اس دن کی خبر دیتا ہے جب دلوں کے راز ظاہر ہوں گے اور سچی نیت رکھنے والوں کو عزت دی جائے گی، جبکہ ریاکار رسوا کیے جائیں گے۔