اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کی زمین کو میدانِ محشر اس لیے کہا ہے کہ اس دن پوری انسانیت ایک ہی جگہ جمع کی جائے گی، جہاں نہ کوئی بلندی ہوگی، نہ پستی، نہ سایہ، نہ چھپنے کی کوئی جگہ بلکہ ہر انسان اپنے اعمال کے ساتھ کھڑا ہوگا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ وَبَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ
جس دن زمین بدلی جائے گی دوسری زمین سے، اور آسمان بھی (بدل دیے جائیں گے)، اور سب لوگ ظاہر ہو کر اللہ، واحد و قہار کے سامنے کھڑے ہوں گے۔
(ابراہیم :48)
یعنی اس دن زمین کو بالکل ہموار کر دیا جائے گا، اور جیسا کہ فرمایا
فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا
پھر وہ زمین ہموار اور چٹیل میدان بنا دی جائے گی۔
(سورۃ طٰہٰ :106)
نبی کریم ﷺ نے فرمایا
يحشر الناس يوم القيامة على ارض بيضاء عفراء كقرصة نقي
قیامت کے دن لوگوں کا حشر سفید و سرخی آمیز زمین پر ہو گا جیسے میدہ کی روٹی صاف و سفید ہوتی ہے۔
(صحيح بخاري:كتاب الرقاق:حدیث: 6521)
اس طرح میدانِ محشر کا مطلب ہے وہ عظیم دن جب تمام مخلوق ایک برابر زمین پر ربِ کائنات کے حضور جمع ہوگی تاکہ فیصلہ عدل کے ساتھ کیا جائے اور ہر بندہ اپنے اعمال کے مطابق جزا یا سزا پائے۔