قرآن کے مطابق جب موسیٰؑ کے دلائل دیکھ کر فرعون کے جادوگر ایمان لے آئے تو فرعون نے سخت دھمکی دی کہ وہ انہیں اذیت ناک سزا دے گا۔
قَالَ فِرْعَوْنُ اٰمَنْتُمْ بِهٖ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ ۚ اِنَّ هٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوْهُ فِي الْمَدِيْنَةِ لِتُخْرِجُوْا مِنْهَآ اَهْلَهَا ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ لَاُقَطِّعَنَّ اَيْدِيَكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِيْنَ
فرعون نے کہا تم اس پر ایمان لے آئے ہو اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دیتا ؟ یقیناً یہ ایک چال ہے جو تم سب نے مل کراس شہر میں چلی ہے تاکہ تم اس (شہر) سے نکال دو اس کے رہنے والوں کو تو عنقریب تم (اس کاانجام) جان لو گے۔ میں یقیناً کاٹ ڈالوں گا تمھارے ہاتھوں اور تمھارے پاؤں کو مخالف سمت سے پھر تم سب کو ضرور سولی پر لٹکا دوں گا۔
(الأعراف: 123-124)
فرعون نے اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے جادوگروں پر الزام لگایا کہ وہ موسیٰؑ کے ساتھ ملے ہوئے ہیں، اور پھر ان کے لیے انتہائی ظالمانہ سزا مقرر کی ہاتھ اور پاؤں مخالف سمت سے کاٹنا، اور اس کے بعد سولی پر لٹکا دینا۔ یہ واقعہ قرآن میں اس بات کی دلیل ہے کہ باطل طاقتیں ہمیشہ حق کے ماننے والوں پر ظلم کرتی ہیں، لیکن ایمان والوں کے دل مضبوط رہتے ہیں اور وہ اللہ پر بھروسہ کرنے والے ہوتے ہیں۔