|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

طالوت کے لشکر کا کون سا امتحان پانی کے کنارے کیا گیا؟

No media found.

قرآن کریم میں ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے طالوت کے لشکر کا ایک خاص امتحان پانی کے کنارے کیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ

فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوْتُ بِالْجُنُوْدِ ۙ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ مُبْتَلِيْكُمْ بِنَهَرٍ ۚ فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَيْسَ مِنِّىْ ۚ وَمَنْ لَّمْ يَطْعَمْهُ فَاِنَّهٗ مِنِّىْٓ اِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةًۢ بِيَدِهٖ ۚ فَشَرِبُوْا مِنْهُ اِلَّا قَلِيْلًا مِّنْهُمْ ۭ فَلَمَّا جَاوَزَهٗ ھُوَ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ ۙ قَالُوْا لَا طَاقَةَ لَنَا الْيَوْمَ بِجَالُوْتَ وَجُنُوْدِهٖ ۭ قَالَ الَّذِيْنَ يَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوااللّٰهِ ۙ كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِيْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ وَاللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ ۝
تو جب طالوت اپنے لشکر کو لے کر نکلے (تو) کہا بےشک اللہ تمھیں ایک نہر سے آزمانے والا ہے تو جس نے اُس میں سے (سیر ہوکر) پانی پی لیا وہ میرا ساتھی نہیں اور جس نے اُس کے پانی کو نہ چکھا تو بےشک وہی میرا ساتھی ہے سوائے اس کے کہ کوئی ایک چُلُّو بھر پانی اپنے ہاتھ میں لے تو اُن میں سے چند لوگوں کے سوا سب نے اُس سے (سیر ہوکر ) پیا پھر جب وہ (طالوت) اور وہ جو اُن کے ساتھ ایمان لائے تھے اس (نہر) کے پار ہوگئے تو (چند لوگ) کہنے لگے آج تو ہمارے پاس طاقت نہیں ہے جالوت اور اُس کے لشکر (کے مقابلہ) کی (مگر) جنھیں یقین تھا کہ وہ اللہ سے ملاقات کرنے والے ہیں انھوں نے کہا کہ کتنی ہی بار ایسا ہوا ہے کہ ایک چھوٹی جماعت غالب آئی ہے اللہ کے حکم سے بڑی جماعت پر اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
(البقرۃ: 249)

یہ آزمائش صبر اور ضبطِ نفس کا امتحان تھا۔ جو لوگ اللہ کے حکم پر قائم رہے اور صبر کیا وہی آگے چل کر جالوت کے مقابلے میں ڈٹے رہے، جبکہ پیٹ بھر کر پانی پینے والے پیچھے رہ گئے۔

رسول اللہ ﷺ نے بھی صبر کو ایمان کا لازمی حصہ قرار دیا:
ومن يتصبر يصبره الله، وما اعطي احد عطاء خيرا واوسع من الصبر
اور جو شخص اپنے اوپر زور ڈال کر بھی صبر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اسے صبر و استقلال دے دیتا ہے۔ اور کسی کو بھی صبر سے زیادہ بہتر اور اس سے زیادہ بےپایاں خیر نہیں ملی۔ (صبر تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہے)۔
(صحيح بخاري:كتاب الزكاة:حدیث: 1469)

یہ واقعہ اہل ایمان کے لیے سبق ہے کہ بڑی کامیابی کے لیے آزمائش میں صبر اور ضبطِ نفس ضروری ہے۔

Video Short Clips

Log In to Your Account