|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

شفاعت کے منکرین کو قرآن کس انجام کی خبر دیتا ہے؟

No media found.

توحید کی اصل بنیاد یہ ہے کہ نفع و نقصان، اختیار و تصرف صرف اللہ کے پاس ہے۔ شفاعت (سفارش) کا عقیدہ اسی اصول کے تابع ہے، یعنی کوئی سفارش نفع نہیں دے سکتی جب تک اللہ اجازت نہ دے۔ شفاعت کے منکرین دراصل اللہ کی رحمت اور اس کے عدل دونوں کا انکار کرتے ہیں، اور قرآن نے ان کے انجام کو نہایت سخت الفاظ میں بیان کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

فَمَا تَنفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشَّافِعِينَ
پھر سفارش کرنے والوں کی کوئی سفارش ان کے لیے فائدہ نہ دے گی۔
(المدثر، :48)

یہ آیت اُن لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو دنیا میں ایمان کے بغیر شفاعت پر بھروسہ کرتے تھے، یا قیامت کے دن اس کی حقیقت کا انکار کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح کر دیا کہ ایمان اور توحید کے بغیر کسی شفاعت کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔ صرف وہی لوگ شفاعت سے نفع پائیں گے جن کے بارے میں اللہ خود اجازت دے گا، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا

مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ
کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کرسکے۔
(البقرۃ: 255)

نبی کریم ﷺ نے فرمایا

شفاعتی لأهل الكبائر من أمتي
میری شفاعت میری امت کے اُن گنہگاروں کے لیے ہے جنہوں نے اللہ کو ایک مانا۔
(سنن ابی داؤد، حدیث: 4739، صحیح)

یہ حدیث اس توازن کو واضح کرتی ہے کہ شفاعت انکار کے نہیں، بلکہ ایمان و توحید کے ساتھ گناہ گاروں کے لیے اللہ کی رحمت کا دروازہ ہے۔

لہٰذا شفاعت کے منکرین وہ ہیں جو یا تو اللہ کے اختیار کو محدود سمجھتے ہیں، یا قیامت کے دن کے نظامِ عدل و فضل کو ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ قرآن کے مطابق ان کے لیے کسی شفیع کی سفارش فائدہ مند نہیں ہوگی، اور وہ اپنے کفر کے سبب ہمیشہ کے لیے خسارے میں رہیں گے۔

نتیجہ یہ ہے کہ مومن شفاعت پر ایمان رکھتا ہے مگر شرطِ توحید کے ساتھ یعنی شفاعت بھی اسی کی ہوگی جسے اللہ اجازت دے، اور نجات بھی صرف اسی کے حکم سے ملے گی۔

Video Short Clips

Log In to Your Account