جنت کے درجے اعمال، ایمان اور اخلاص کی بنیاد پر تقسیم کیے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
وَلِكُلٍّ دَرَجَاتٌ مِّمَّا عَمِلُوا ۚ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُونَ
اور ہر ایک کے لیے اس کے اعمال کے مطابق درجے ہیں، اور تیرا رب ان کے کاموں سے غافل نہیں۔
(الأنعام :132)
یعنی جنت میں درجات کا دار و مدار اعمالِ صالحہ پر ہے جتنا زیادہ ایمان، تقویٰ، صبر، جہاد، علم، ذکر، اور نیکی میں اخلاص ہوگا، اتنا ہی بلند درجہ عطا کیا جائے گا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور نماز قائم کرے اور رمضان کے روزے رکھے تو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ وہ جنت میں داخل کرے گا خواہ اللہ کے راستے میں وہ جہاد کرے یا اسی جگہ پڑا رہے جہاں پیدا ہوا تھا۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا ہم لوگوں کو اس کی بشارت نہ دے دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں سو درجے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے راستے میں جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کئے ہیں ‘ ان کے دو درجوں میں اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان و زمین میں ہے۔ اس لیے جب اللہ تعالیٰ سے مانگنا ہو تو فردوس مانگو کیونکہ وہ جنت کا سب سے درمیانی حصہ اور جنت کے سب سے بلند درجے پر ہے۔ یحییٰ بن صالح نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں یوں کہا کہ اس کے اوپر پروردگار کا عرش ہے اور وہیں سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں۔ محمد بن فلیح نے اپنے والد سے (وفوقه عرش الرحمن) ہی کی روایت کی ہے۔
(صحيح البخاري:كتاب الجهاد والسير:حدیث: 2790)
پس جنت کے درجے ایمان کے کمال، اعمالِ صالحہ کی کثرت، اور نیت کے اخلاص کے لحاظ سے متعین ہوں گے، اور سب سے بلند درجہ الفردوس الأعلى ہے، جہاں نبی ﷺ اور انبیائے کرامؑ ہوں گے۔