|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

بنی اسرائیل نے اپنی ضد اور سرکشی کے نتیجے میں کتنے سال صحراء میں بھٹکنے کی سزا پائی؟

No media found.

بنی اسرائیل کو اللہ نے بارہا اپنی قدرت کی نشانیاں دکھائیں، سمندر کو پھاڑ کر انہیں فرعون سے نجات دی، آسمان سے من و سلویٰ اتارا، بارش اور سایہ دیا، لیکن جب اللہ نے حکم دیا کہ وہ مقدس زمین میں جہاد کریں اور اللہ کے بھروسے پر داخل ہوں تو انہوں نے کھلم کھلا نافرمانی کی۔ انہوں نے کہا

قَالُوْا يٰمُوْسٰٓى اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَآ اَبَدًا مَّا دَامُوْا فِيْهَا فَاذْهَبْ اَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَآ اِنَّا ھٰهُنَا قٰعِدُوْنَ
انھوں نے کہا اے موسیٰ ! بے شک ہم ہرگز اِس (سر زمین) میں کبھی بھی داخل نہ ہوں گے جب تک وہ اِس میں موجود ہیں پس تم اور تمھارا ربّ جاؤ پھر دونوں لڑو بےشک ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔
(المائدہ: 24)

یہ جملہ نہ صرف نافرمانی بلکہ اللہ پر بدگمانی اور سرکشی کی انتہا تھی۔ اللہ نے اس کے جواب میں سخت سزا دی اور فرمایا

قَالَ فَاِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ اَرْبَعِيْنَ سَـنَةً ۚ يَتِيْھُوْنَ فِي الْاَرْضِ ۭ فَلَا تَاْسَ عَلَي الْقَوْمِ الْفٰسِقِيْنَ
یہ زمین ان پر چالیس سال کے لیے حرام ہے، وہ صحراء میں بھٹکتے رہیں گے، پس اے موسیٰ! تم فاسق قوم پر افسوس نہ کرو۔
(المائدہ: 26)

اس چالیس سالہ بھٹکنے کو مفسرین نے تیہ کہا ہے، یعنی وہ دن رات چلتے رہے مگر صحرا سے نکل نہ سکے۔ اس مدت میں پرانی نافرمان نسل ختم ہوگئی اور ایک نئی نسل تیار ہوئی جو اطاعت کے قابل بنی۔

یہ سزا اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ کی نصرت محض نسبت یا دعوے پر نہیں آتی، بلکہ کامل اطاعت اور توحید پر آتی ہے۔ بنی اسرائیل کا انکار اس لیے بھی بڑا جرم تھا کہ وہ اللہ کی نشانیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے تھے، مگر اس کے باوجود دنیاوی خوف اور خواہشات کو اللہ کے حکم پر ترجیح دی۔ یہ رویہ دراصل اللہ کی حاکمیت کو رد کر کے اپنی رائے کو فیصلہ کن ماننا تھا، جو شرک فی الطاعة کی شکل ہے۔

نبی کریم ﷺ نے اس حقیقت کو یوں بیان فرمایا
لتتبعن سنن من كان قبلكم شبرا شبرا، وذراعا بذراع حتى لو دخلوا جحر ضب تبعتموهم، قلنا: يا رسول الله، اليهود، والنصارى، قال: فمن
تم اپنے سے پہلی امتوں کی ایک ایک بالشت اور ایک ایک گز میں اتباع کرو گے، یہاں تک کہ اگر وہ کسی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئے ہوں گے تو تم اس میں بھی ان کی اتباع کرو گے۔ ہم نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا یہود و نصاریٰ مراد ہیں؟ فرمایا پھر اور کون۔
(صحيح البخاري:كتاب الاعتصام:حدیث: 7320)

اس واقعے کا نتیجہ یہی ہے کہ اللہ کے دین میں ضد اور سرکشی ذلت اور گمراہی کا سبب ہے، چاہے قوم بنی اسرائیل ہو یا آج کے مسلمان۔ عزت اور نصرت صرف اسی کے لیے ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت میں قائم ہو، اپنی خواہش یا خوف کے تابع نہ ہو۔ جو قوم توحید اوراطاعت پر کھڑی ہو وہی اللہ کی مدد اور غلبے کی مستحق ہوتی ہے۔

Video Short Clips

Log In to Your Account