نبی ﷺ کے زمانے میں اور صحابہ کرامؓ کے دور میں اہل ایمان میں سے کسی نے بھی کبھی غیر اللہ کے نام پر نذر یا نیاز نہیں دی۔ یہ بات تاریخ اور سیرت سے بالکل واضح ہے۔ نبی ﷺ نے مشرکین مکہ کے اس عمل کو قرآن میں بار بار منع فرمایا کہ وہ اپنے معبودوں کے نام پر نذر ونیاز دیتے تھے، کیونکہ یہ شرک کے زمرے میں آتا تھا۔ صحابہ کرامؓ نے اس کی سختی سے پیروی کی اور نذر و نیاز ہمیشہ خالص اللہ کے لیے کی۔
وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ
اور انہیں صرف یہی حکم دیا گیا تھا کہ وہ اللہ کی عبادت کریں، اسی کے لیے دین کو خالص رکھتے ہوئے۔ البینہ :5
عبادت اور نذر و نیاز کا دائرہ صرف اللہ کے لیے ہے، اور کسی مخلوق کے لیے شامل کرنا ممنوع ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ
اللہ نے اس پر لعنت فرمائی جو اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر قربانی کرے۔
صحیح مسلم: کتاب الاضاحی: باب تحريم الذبح لغير الله تعالى ولعن فاعله: 5126
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرامؓ نے نذر و نیاز کو صرف اللہ کے لیے مخصوص رکھا اور کسی ولی یا صالح کے نام پر دینے کا کوئی عمل نہیں ہوا۔ اس لئے کہ غیر اللہ کے نام پر نذر یا قربانی دینا شرک اور توحید کے خلاف ہے۔