|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

انسان کو اس دن أَحْصَاهُ اللَّهُ وَنَسُوهُ (اللہ نے سب گن رکھا ہے، وہ بھول گئے) کس معنی میں کہا جائے گا؟

No media found.

قیامت کے دن انسان کو أَحْصَاهُ اللَّهُ وَنَسُوهُ (اللہ نے سب گن رکھا ہے اور وہ بھول گئے) اس معنی میں کہا جائے گا کہ بندے کے تمام اعمال، اقوال اور نیتیں چاہے وہ کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہوں اللہ کے علم اور ریکارڈ سے پوشیدہ نہیں رہیں۔ انسان دنیا میں انہیں بھول گیا ہوگا، مگر اللہ نے اپنے علم و عدل میں سب محفوظ رکھا ہوگا۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ جَمِيعًا فَيُنَبِّئُهُم بِمَا عَمِلُوا أَحْصَاهُ اللَّهُ وَنَسُوهُ ۚ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ
جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گا اور انہیں ان کے اعمال سے آگاہ کرے گا، اللہ نے انہیں شمار کر رکھا ہے اور وہ خود بھول گئے، اور اللہ ہر چیز پر گواہ ہے۔
(المجادلہ :6)

یعنی دنیا میں انسان اپنے گناہ یا ظلم کو معمولی سمجھ کر بھول جاتا ہے، لیکن اللہ کا علم کامل ہے اس نے ہر بات لکھی ہے۔ اسی لیے فرمایا گیا

وَوُضِـعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِيْنَ مُشْفِقِيْنَ مِمَّا فِيْهِ وَيَقُوْلُوْنَ يٰوَيْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا يُغَادِرُ صَغِيْرَةً وَّلَا كَبِيْرَةً اِلَّآ اَحْصٰىهَا ۚ وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا ۭ وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا
اور کتاب رکھی جائے گی تو تم گنہگاروں کو دیکھوگے کہ جو کچھ اس میں ہوگا اس سے ڈر رہے ہوں گے اور کہیں گے کہ ہائے بربادی ! یہ کیسی کتاب ہے کہ نہ چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے اور نہ بڑی کو (کوئی بات بھی نہیں) مگر اسے لکھ رکھا ہے اور جو عمل کیے ہوں گے سب کو حاضر پائیں گے اور تمہارا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔
(الکہف :49)

یہ آیت دراصل توحید کے اس اصول کو واضح کرتی ہے کہ اللہ العلیم (ہر چیز کا علم رکھنے والا) ہے، اور اس کا علم نہ وقت سے محدود ہے نہ فراموشی سے، لہٰذا بندے کو اپنے ہر عمل کے حساب کے لیے ہمیشہ تیار رہنا چاہیے۔

Video Short Clips

Log In to Your Account