تہتر فرقوں والی حدیث اصلاًصحیح ہے، اگرچہ بعض روایات میں الفاظ کے فرق اور اسانید کے درجات مختلف ہیں۔
قرآن مجید میں اس کی طرف اشارہ یوں ہے
فَتَقَطَّعُوا أَمْرَهُم بَيْنَهُمْ زُبُرًا ۖ كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ
انہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور گروہ بن گئے، ہر گروہ اسی پر خوش ہے جو اس کے پاس ہے۔ المؤمنون: 53
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
لَيَأْتِيَنَّ عَلَى أُمَّتِي مَا أَتَى عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ حَذْوَ النَّعْلِ بِالنَّعْلِ ، حَتَّى إِنْ كَانَ مِنْهُمْ مَنْ أَتَى أُمَّهُ عَلَانِيَةً لَكَانَ فِي أُمَّتِي مَنْ يَصْنَعُ ذَلِكَ ، وَإِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ تَفَرَّقَتْ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً ، وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةً ، كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلَّا مِلَّةً وَاحِدَةً. قَالُوا: وَمَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي
میری امت پر بھی وہی کچھ ضرور آئے گا جو بنی اسرائیل پر آیا تھا، بالکل ایسے جیسے ایک جوتا دوسرے جوتے کے برابر ہوتا ہے، یہاں تک کہ اگر ان میں کوئی شخص علانیہ اپنی ماں سے بدکاری کرتا تھا تو میری امت میں بھی ایسے لوگ ہوں گے جو یہ کام کریں گے۔ اور بنی اسرائیل بہتر (72) فرقوں میں بٹ گئے تھے، جبکہ میری امت تہتر (73) فرقوں میں بٹ جائے گی، ان میں سے ایک کے سوا سب جہنم میں ہوں گے۔صحابۂ کرامؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ ایک گروہ کون سا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:وہ جو اس راستے پر ہوگا جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔ (مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي)۔
جامع الترمذي – أبواب الإيمان عن رسول الله صلى الله عليه وسلم – ما جاء في افتراق هذه الأمة:2641
اسی روایت کو امام ابو داود نے سنن أبي داود – كتاب السنة:4597 میں درج کیا اس میں الجماعة کے الفاظ بھی ہیں ۔ یعنی یہ روایت اپنی متعدد اسانید شواہد کی بنا پر اور طرق کی بنا پر صحیح ثابت ہے، اور امت کے افتراق اور نجات یافتہ گروہ کے بارے میں واضح خبر دیتی ہے۔
جبکہ اسکی تائید قرآن میں اس طرح بھی ہے کہ
وَمِمَّنْ خَلَقْنَآ اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ
اور جو لوگ ہم نے پیدا کیے ان میں سے ایک گروہ ایسا بھی ہے جو حق کے مطابق رہ نُمائی کرتا ہے اور اسی کے مطابق انصاف کرتا ہے۔ الاعراف:181
اس طرح ایک ہی گروہ کے حق ہونے کی تائید ہے۔