قرآن و سنت کی روشنی میں یا علی مدد کہنا درست نہیں ہے بلکہ شرک کے زمرے میں آتا ہے، کیونکہ مدد مانگنا اور پکارنا صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔ کسی ولی، نبی یا فرشتے کو مدد کے لیے پکارنا عبادت میں غیر اللہ کو شریک کرنا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا
إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ
ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔
(الفاتحة: 5)
اور فرمایا
فَلَا تَدْعُوا مَعَ ٱللَّهِ أَحَدًۭا
پس اللہ کے ساتھ کسی کو نہ پکارو۔
(الجن: 18)
نبی ﷺ نے واضح فرمایا
إذا سألت فاسأل الله، وإذا استعنت فاستعن بالله
جب مانگو تو اللہ سے مانگو، اور جب مدد چاہو تو اللہ سے مدد چاہو۔
(جامع الترمذی، حدیث 2516)
لہٰذا یا علی مدد کہنا عقیدۂ توحید کے خلاف اور شرک ہے۔ صحیح عقیدہ یہ ہے کہ کہا جائے: یا اللہ مدد کیونکہ علیؓ سمیت تمام صحابہ کرامؓ خود اللہ کے محتاج تھے، وہ اللہ کی مخلوق تھے، مشکل کشا اور حاجت روا صرف اللہ ہے۔