فوت شدہ شخص کی روح کا زندوں کے گھروں میں آنا جانا بالکل ممکن نہیں۔ موت کے بعد روح کا تعلق دنیا سے ٹوٹ جاتا ہے اور وہ عالمِ برزخ کی طرف منتقل ہو جاتی ہے، جہاں سے اس کی واپسی یا دنیاوی حرکت کا کوئی تصور قرآن و سنت میں موجود نہیں۔ جو قومیں روحوں کے گھروں میں آنے جانے پر یقین رکھتی تھیں، ان کے بارے میں قرآن نے ان کے باطل عقائد کو واضح کیا ہے۔
كَلَّا إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَائِلُهَا وَمِنْ وَرَائِهِمْ بَرْزَخٌ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ
ہرگز نہیں، یہ وہ بات ہے جو وہ کہہ رہا ہے، اور ان کے پیچھے ایک حائل پردہ (برزخ) ہے، قیامت کے دن تک۔
(المؤمنون 100)
یہ برزخ وہ پردہ ہے جو روح کو دنیا کے معاملات سے مکمل طور پر جدا کر دیتا ہے۔ اس کے بعد نہ روح گھر آ سکتی ہے، نہ لوگوں کے درمیان گھوم سکتی ہے، نہ کسی جگہ حاضر ہو سکتی ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا
جب بندہ مر جاتا ہے تو اس کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں۔
(صحيح مسلم: كِتَابُ الْوَصِيَّةِ:بَابُ مَا يَلْحَقُ الْإِنْسَانَ مِنَ الثَّوَابِ بَعْدَ وَفَاتِهِ:1631)
اس کا دنیا سے تعلق ختم ہو چکا ہے، وہ دنیا میں آمدورفت کی قدرت بھی نہیں رکھتا۔ اگر روح گھروں میں آتی جاتی، تو اعمال منقطع نہ ہوتے، اور یہ دونوں باتیں ہی نص کے خلاف ہے۔ مردے کی روح کا گھروں میں آنا جانا، دیواروں پر گردش کرنا، یا زندوں کے پاس آ کر بیٹھنا، یہ سب غیر اسلامی، ہندوانہ اور صوفیانہ نظریہ ہے۔ قرآن و سنت کے مطابق روح برزخ میں مقید ہوتی ہے، دنیا میں کسی قسم کی آمدورفت نہیں کرتی۔