|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

کیا توحیدِ عمل کے بغیر توحیدِ علم مکمل ہو سکتی ہے؟

No media found.

توحید صرف عقیدہ کا نام نہیں بلکہ علم و عمل کے مکمل اتحاد کا نام ہے۔ اگر علمِ توحید ہو لیکن عمل شرک یا بدعت والا ہو تو ایسا علم ناقص بلکہ بے فائدہ ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا
قَالَتِ ٱلْأَعْرَابُ ءَامَنَّا ۖ قُل لَّمْ تُؤْمِنُوا۟ وَلَـٰكِن قُولُوٓا۟ أَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ ٱلْإِيمَـٰنُ فِى قُلُوبِكُمْ
یہ بدوی کہتے ہیں ہم ایمان لائے، آپ کہہ دیجئے کہ تم ایمان نہیں لائے بلکہ یہ کہو کہ ہم نے اسلام قبول کیا ہے، ابھی ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔
(الحجرات: 14)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ علمی دعویٰ تب تک معتبر نہیں جب تک اس کے ساتھ عملی اطاعت نہ ہو۔ توحیدِ علم کا تقاضا یہ ہے کہ بندہ جان لے کہ صرف اللہ ہی معبود ہے، اور توحیدِ عمل یہ ہے کہ بندہ اسی اللہ کی عبادت کرے اور اسی کے حکم کے مطابق زندگی بسر کرے۔

نبی ﷺ نے فرمایا
الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ شُعْبَةً، أَعْلَاهَا قَوْلُ لا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الأذَى عَنِ الطَّرِيقِ
ایمان کی ستر سے زیادہ شاخیں ہیں، سب سے اعلیٰ شاخ لا إله إلا الله کہنا ہے، اور سب سے ادنیٰ راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ہے۔
صحيح مسلم – كتاب الإيمان – باب شعب الإيمان: 35
یعنی ایمان (اور توحید) صرف قول نہیں بلکہ عملی نظامِ حیات ہے۔ اگر بندہ علم کے باوجود اطاعتِ غیراللہ کرے، بدعتوں میں پڑے یا شریعت کے مقابلے میں طاغوتی نظام کو مانے، تو اس کا علم اسے نفع نہیں دے گا۔

Video Short Clips

Log In to Your Account