|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

کیا ایمان کی بقا کے لیے شرک خفی سے بھی اجتناب لازم ہے؟

No media found.

ایمان کی حفاظت صرف شرکِ جلی سے بچنے ہی سے نہیں بلکہ شرکِ خفی سے بھی اجتناب سے مشروط ہے، کیونکہ شرکِ خفی دل کے اخلاص کو مجروح کرتا ہے اور بندگی کی پاکیزگی کو زائل کر دیتا ہے۔ یہ ایمان کو ضائع اور عمل کو بے وزن کر دیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ
فَمَن كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا۝
جو اپنے رب سے ملاقات کا امیدوار ہو، وہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے۔
یہاں کسی کو شریک نہ کرے میں ہر قسم کا شرک داخل ہے، خواہ وہ بڑا ہو یا چھوٹا، ظاہر ہو یا پوشیدہ۔
(سورۃ الکہف: 110)

لہٰذا ایمان کی بقا اسی وقت ممکن ہے جب بندہ ہر قسم کے شرک سے پاک رہے، خواہ وہ نیت میں ہو، زبان میں ہو یا عمل میں۔ خالص ایمان وہ ہے جو صرف اللہ کے لیے ہو نہ ریا کے لیے، نہ مخلوق کی خوشنودی کے لیے، بلکہ صرف ربّ کی رضا کے لیے۔

Video Short Clips

Log In to Your Account