اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ذکر کیا ہے کہ نوح علیہ السلام کی کشتی بالآخر جُودِی پہاڑ پر آ کر ٹھہری تھی۔
وَقِيلَ يَا أَرْضُ ابْلَعِي مَاءَكِ وَيَا سَمَاءُ أَقْلِعِي وَغِيضَ الْمَاءُ وَقُضِيَ الْأَمْرُ وَاسْتَوَتْ عَلَى الْجُودِيِّ وَقِيلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظَّالِمِينَ
اور کہا گیا اے زمین! اپنا پانی نگل جا، اور اے آسمان! تھم جا، پھر پانی خشک کر دیا گیا اور کام پورا ہوا، اور کشتی جُودِی پر ٹھہر گئی، اور کہا گیا: ظالم قوم کے لیے دوری ہے۔
(ہود: 44)
مفسرین کے مطابق جودی ایک پہاڑ ہے جو موجودہ ترکی اور عراق کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ یہ واقعہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ اللہ کی نصرت ہمیشہ اہلِ ایمان کے ساتھ ہوتی ہے، چاہے پوری دنیا ان کے خلاف ہو۔