میرا مسلک ہی حق ہے کہنا دراصل تعصب اور نفسانیت کی علامت ہے، نہ کہ کوئی علمی یا دینی دعویٰ۔ قرآن نے حق کو کسی گروہ، امام یا مسلک کے ساتھ خاص نہیں کیا بلکہ صرف اللہ کی وحی کے تابع کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ ښ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ
حق کے بعد گمراہی کے سوا اور کیا باقی رہ جاتا ہے؟ پھر تم کدھر پھیرے جا رہے ہو؟
(یونس: 32)
یعنی حق صرف ایک ہے وہ جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے بیان کیا، اور جو صحابہؓ نے سمجھا۔ اس لیے ایمان والوں کا شعار یہ ہونا چاہیے کہ حق وہ ہے جو قرآن و سنت سے ثابت ہو، خواہ وہ کسی کے مسلک کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔