|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

قومِ عاد پر کس قسم کی آندھی کا عذاب نازل ہوا؟

No media found.

قومِ عاد پر اللہ تعالیٰ نے ایک نہایت سخت، مسلسل چلنے والی آندھی کا عذاب نازل کیا جس نے انہیں بالکل نیست و نابود کر دیا۔

اللہ نے فرمایا کہ
وَأَمَّا عَادٌ فَأُهْلِكُوا بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ ۝ سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَىٰ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ۝
اور عاد کو ایک نہایت سخت، گرج دار، طوفانی ہوا سے ہلاک کیا گیا، جو اس پر سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل مسلط رہی، تو تُو دیکھتا کہ وہ لوگ اس میں یوں گر پڑے تھے گویا وہ کھجور کے کھوکھلے تنے ہوں۔(الحاقہ: 6-7)

یہ آندھی صرف ہوا نہ تھی بلکہ چیختی، گرج دار اور ہلاک کر دینے والی تھی جس نے ان کے بڑے بڑے محلات اور مضبوط جسموں کو جڑ سے اکھاڑ ڈالا۔

نبی ﷺ نے فرمایا کہ
نُصِرْتُ بِالصَّبَا، وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ
مجھے مشرق کی ہوا (صبا) سے مدد دی گئی اور قومِ عاد کو مغربی ہوا (دبور) سے ہلاک کیا گیا۔
(صحیح بخاری:كتاب الاستسقاء: حدیث 1035)

اس واقعے میں اہلِ ایمان کے لیے نصیحت ہے کہ اللہ کے مقابلے میں کوئی طاقت کارگر نہیں۔ آج بھی اگر انسان اپنی طاقت، ٹیکنالوجی یا دولت پر غرور کرے اور اللہ کو بھول جائے تو اس کا انجام بھی انہی قوموں جیسا ہو سکتا ہے۔

Video Short Clips

Log In to Your Account