|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

قرآن میں یَوْمُ الْفَصْلِ (فیصلے کا دن) کہنے سے کیا مراد ہے؟

No media found.

قرآن میں یَوْمُ الْفَصْلِ سے مراد قیامت کا وہ دن ہے جب اللہ تعالیٰ سب انسانوں کے اعمال کا حتمی فیصلہ فرمائے گا اور ہر شخص کے حق و باطل کا فیصلہ واضح ہو جائے گا۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
اِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ مِيْقَاتُهُمْ اَجْمَعِيْنَ ۝ يَوْمَ لَا يُغْنِيْ مَوْلًى عَنْ مَّوْلًى شَـيْــــًٔا وَّلَا هُمْ يُنْصَرُوْنَ ۝
بیشک فیصلے کا دن ان سب کا وہ مقرر کردہ وقت ہے، جس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ بھی کام نہیں آئے گا، اور نہ ہی ان کی مدد کی جائے گی۔
(الدخان: 41-42)

یہ دن انصاف و عدل کا دن ہے، جب ہر شخص کے نیک اور بد اعمال کو تول کر دکھایا جائے گا۔ اس دن ہر انسان اپنے اعمال کے مطابق یا جنت میں جائے گا یا جہنم میں۔ قرآن میں اس دن کو یوم الفصل کہنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ کا فیصلہ حتمی، واضح اور کسی قسم کی زیادتی یا ظلم سے پاک ہوگا۔ یوم الفصل ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ زندگی میں ہر عمل اور نیت کی ذمہ داری ہماری خود پر ہے اور قیامت میں کوئی بہانہ یا چھپنے کی جگہ نہیں ہوگی۔

Video Short Clips

Log In to Your Account