|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

قرآن میں یَوْمَ التَّغَابُنِ سے کیا مراد ہے؟

No media found.

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

يَوْمَ يَجْمَعُكُمْ لِيَوْمِ الْجَمْعِ ذَٰلِكَ يَوْمُ التَّغَابُنِ ۗ وَمَن يُؤْمِن بِاللَّهِ وَيَعْمَلْ صَالِحًۭا يُكَفِّرْ عَنْهُ سَيِّـَٔاتِهِ وَيُدْخِلْهُ جَنَّـٰتٍۭ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَـٰرُ خَـٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًۭا ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
جس دن وہ تمہیں جمع کرے گا جمع ہونے کے دن کے لیے وہی دن [یوم التغابن]  ہار اور جیت  کا دن  ہوگا۔ جو شخص اللہ پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے، اللہ اس کی برائیاں دور کر دے گا اور اسے ہمیشہ رہنے والی جنتوں میں داخل کرے گا۔ التغابن: 9

یوم التغابن کا مطلب ہے فائدہ اور خسارہ ظاہر ہونے کا دن۔ دنیا میں حق و باطل، ایمان و کفر، اور نیکی و بدی کا انجام ایک جیسا نہیں لگتا، مگر قیامت کے دن اصل حقیقت کھل جائے گی مومنوں کا نفع اور کافروں کا نقصان ظاہر ہو جائے گا۔ اس دن اہلِ ایمان کو اللہ کی رضا اور جنت ملے گی، جبکہ منکرین کو اپنی محرومی اور غفلت پر ندامت ہوگی۔

كُلُّ أَهْلِ النَّارِ يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ فَيَقُولُ : لَوْ أَنَّ اللهَ هَدَانِي فَيَكُونُ عَلَيْهِ حَسْرَةً ، قَالَ : وَكُلُّ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ فَيَقُولُ لَوْلَا أَنَّ اللهَ هَدَانِي قَالَ : فَيَكُونُ لَهُ شُكْرٌ
جہنم میں جانے والا ہر شخص جنت میں اپنے مقام کو دیکھے گا اور کہے گا: کاش! اللہ مجھے ہدایت دے دیتا، تو یہ اس کے لیے حسرت کا باعث ہوگا۔ اور جنت میں جانے والا ہر شخص جہنم میں اپنے مقام کو دیکھے گا اور کہے گا: اگر اللہ مجھے ہدایت نہ دیتا (تو میں یہاں ہوتا)، پس یہ اس کے لیے شکر کا سبب ہوگا۔

مسند أحمد بن حنبل – مسند أبي هريرة رضي الله عنه: 10802

یوں یوم التغابن دراصل حق و باطل کے درمیان آخری فیصلہ کا دن ہے، جب ایمان والے کامیاب اور منکرین خسارے میں ہوں گے۔ یہ دن انسان کے عقیدۂ توحید اور عملِ صالح کی حقیقت کو آشکار کر دے گا۔

Video Short Clips

Log In to Your Account