فرعون نے موسیٰ علیہ السلام کو جھٹلایا اور ان پر جادوگر ہونے کا الزام لگایا۔ اس نے اپنی قوم سے کہا کہ موسیٰؑ تمہیں تمہارے دین سے پھیرنا اور ملک میں فتنہ پھیلانا چاہتا ہے۔ قرآن میں فرمایا گیا
قَالَ لِلْمَلَاِ حَوْلَهٗٓ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌعَلِيْمٌ يُّرِيْدُ اَنْ يُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهٖ فَمَاذَا تَاْمُرُوْنَ
فرعون نے اپنے درباریوں سے کہا: یہ شخص تو بڑا ماہر جادوگر ہے، یہ اپنے جادو کے ذریعے تمہیں تمہاری زمین سے نکالنا چاہتا ہے، تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو؟
(الشعراء: 34–35)
فرعون نے موسیٰؑ کی سچائی کو دیکھنے کے باوجود غرور اور اقتدار کے خوف سے انکار کیا۔ وہ سمجھتا تھا کہ اگر وہ ایمان لے آیا تو اس کی بادشاہت اور الوہیت کا جھوٹا دعویٰ ختم ہو جائے گا۔ یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ حق کو جھٹلانے کی اصل جڑ تکبر اور دنیا پرستی ہے۔ جو شخص اقتدار یا شہرت کے خوف سے حق کو ماننے سے انکار کرے، وہ فرعون کے طریق پر چلتا ہے، جبکہ اہلِ ایمان اللہ کی راہ پر صبر اور یقین کے ساتھ جمے رہتے ہیں۔