|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

طالوتؑ اور جالوت کے واقعے سے اہلِ ایمان کو کس سبق کی تعلیم دی گئی؟

No media found.

قرآن میں طالوتؑ اور جالوت کے واقعے کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کو صبر، توکل اور قلیل جماعت کی عظمت کا سبق دیا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِيْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ وَاللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ ۝
کتنی ہی بار ایسا ہوا ہے کہ ایک چھوٹی جماعت غالب آئی ہے اللہ کے حکم سے بڑی جماعت پر اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
(البقرہ: 249)

جب طالوتؑ کے لشکر کو دشمن کے مقابلے میں آزمایا گیا تو بہت سے لوگ کمزوری دکھا گئے، مگر جو ایمان والے ثابت قدم رہے، وہی اللہ کی مدد کے مستحق بنے۔ داؤدؑ نے جالوت کو قتل کیا اور اللہ نے اسے بادشاہی اور حکمت عطا فرمائی (البقرہ: 251)۔ یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ کامیابی تعداد یا طاقت سے نہیں بلکہ ایمان، صبر اور اللہ پر یقین سے ملتی ہے۔ پس مؤمن کا ہتھیار ایمان، دعا اور صبر ہے، نہ کہ مال یا لشکر۔ یہی طالوت و جالوت کے واقعے کا توحیدی سبق ہے۔

Video Short Clips

Log In to Your Account