|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

صور پھونکنے والا فرشتہ کون ہے اور اس کی کتنی مرتبہ نفخہ (پھونک) ہوگی؟

No media found.

صور پھونکنے والے فرشتے کا نام کچھ روایات میں اِسرافیلؑ ہے، جنہیں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے آغاز اور دوبارہ زندگی کی اطلاع دینے کے لیے مخصوص کیا ہے۔ ان کے پاس وہ عظیم صور (نَفَخہ) موجود ہے جس کے ذریعے پوری کائنات کے نظام کا اختتام اور پھر از سرِ نو آغاز ہوگا۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

وَنُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَاۗءَ اللّٰهُ ۭ ثُمَّ نُفِخَ فِيْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِيَامٌ يَّنْظُرُوْنَ
اور صور میں پھونکا جائے گا توفوت ہوجائینگے وہ جو آسمانوں اور زمین میں ہیں مگر جن کو اللہ تعالیٰ باقی رکھنا چاہے پھر اس میں دوسری مرتبہ پھونکا جائے گا تو اس وقت یہ لوگ کھڑے ہو کر دیکھ رہے ہونگے۔
(سورۃ الزمر :68)

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ دو مرتبہ نفخہ (پھونک) ہوگی

پہلی نفخہ: نفخۃ الصَّعق
اس سے سب مخلوقات مر جائیں گی، یعنی یہ قیامت کی ابتدا ہوگی۔
اسرافیلؑ اللہ کے حکم سے صور میں پھونک ماریں گے تو زمین و آسمان کا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔

دوسری نفخہ: نفخۃ البعث
اس کے بعد دوبارہ صور پھونکا جائے گا، جس سے تمام مخلوق دوبارہ زندہ ہو کر میدانِ حشر میں جمع ہو گی۔

لَمَّا فَرَغَ مِنْ خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ خَلَقَ الصُّورَ ، فَأَعْطَاهُ إِسْرَافِيلَ ، فَهُوَ وَاضِعُهُ عَلَى فِيهِ شَاخِصًا بَصَرَهُ إِلَى الْعَرْشِ يَنْتَظِرُ مَتَى يُؤْمَرُ

جب اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کی تخلیق سے فارغ ہوا تو صور کو پیدا فرمایا اور اسے اسرافیل علیہ السلام کے سپرد کر دیا۔ وہ صور کو اپنے منہ پر رکھے ہوئے، نگاہ عرش کی طرف جمائے کھڑے ہیں اور اس انتظار میں ہیں کہ کب انہیں حکم دیا جائے (اور وہ صور پھونک دیں)۔

المعجم الكبير للطبراني – الأحاديث الطوال – حديث الصور:36

یہی فرشتہ اسرافیلؑ ہیں۔ ان کے متعلق نبی ﷺ نے فرمایا کہ وہ ہمیشہ حکم کے انتظار میں ہیں اور جب اجازت دی جائے گی، فوراً صور پھونک دیں گے۔

Video Short Clips

Log In to Your Account